وزیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ٹائمز اسکوائر حملے کے الزام میں گرفتار ہونے والے فیصل شہزاد کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ضلع نوشہرہ کے عزت دار اور پڑھے لکھے خاندان سے ہے۔ اس کے والد بہار الحق ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ ہیں جبکہ خاندان کے دیگر افراد بھی اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فیصل شہزاد پڑھنے کیلئے امریکا گیا تھا، پچھلے سات سال کے دوران وہ تیرہ مرتبہ پاکستان آیا ، فروری دو ہزار دس میں فیصل شہزاد آخری مرتبہ پاکستان آیا تھا اور اس دوران اس کے دہشت گردوں سے ملنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ٹائمز اسکوائر حملے کی پاکستان میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فیصل شہزاد کے موبائل فون، بینک اکاوٴنٹس اور دوست احباب کے کوائف جمع کئے گئے ہیں۔
رحمان ملک نے کہا کہ مختلف گروہ پاکستان کے خلاف الزامات تراشنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ امریکا نے اب تک فیصل شہزاد کیس کی تحقیقات میں تعاون کیلئے پاکستان سے باضابطہ درخواست نہیں کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/152